5 اپریل 2012 - 19:30

سعودی عرب تیل کے ذخائر کے لحاظ دنیا کا مالدارترین ملک ہے اور دنیا کا سب سے زیادہ تیل اسی ملک میں پیدا ہوتا اور بیرون ملک برآمد ہوتا ہے لیکن یہ ملک اس وقت شدید رہائشی بحران کا شکار ہوچکا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں انجام پانی والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب میں رہنے والو 78 فیصد عوام کے پاس زندگی کے لئے ذاتی مکان نہیں ہے اور یہ غالب اکثریت کرائے کے مکانات میں زندگی بسر کررہی ہے جبکہ 22 فیصد عوام کے پاس ذاتی گھر ہیں۔

دریں اثناء ایک سعودی باشندے نے اپنی گاڑی کو مکان میں تبدیل کررکھا ہے اور ایک خیراتی ادارے سے ماہانہ 54 ڈالر لے کر زندگی بسر کررہا ہے اور اس شخص نے بعض اندرونی ذرائع کو اپنی طرف متوجہ کرادیا ہے۔

یہ 38 سالہ شخص "راشد الحوطی" منطقۃالشرقیہ کے شہر الدمام کا رہائشی ہے اور مسلسل سفر کی حالت میں رہتا کیوں اس کو سر کا سایہ میسر نہیں ہے سوائے اپنی گاڑي کے۔

الحوطی کر ذیابیطس کی بیماری لاحق ہے، ان کی ایک ٹانگ میں درد رہتا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاید ان کی ٹانگ عنقریب آپریشن میں کاٹ دی جائے۔ الحوطی کہتا ہے کہ بیوی نے غربت اور بیماری کی وجہ سے اس کو ترک کردیا ہے اور تینوں بیٹے بھی ماں کے پاس رہتے ہیں۔

الحوطی نے کہا: مجھے ایک خیراتی ادارے سے صرف 200 ریال کی مدد ملتی ہے اور باقی خرچہ الشرقیہ کے لوگوں سے حاصل ہوتا ہے اور لوگ مجھے کھانے پینے کی اشیاء رضاکارانہ طورپر دیتے ہیں۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی تازہ ترین صورت حال/ ایک سیاسی راہنما کی رہائی کے لئے مظاہرے